3 اکتوبر 2014 - 11:42
آیت اللہ خاتمی: مذاکرات میں ریڈ لائین کا خيال رکھا جائے

خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ ملت ایران پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی اس شرط پر حمایت کرتی ہےکہ مذاکرات میں ایران کی ریڈ لائینوں کا خيال رکھا جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ ملت ایران پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی اس شرط پر حمایت کرتی ہےکہ مذاکرات میں ایران کی ریڈ لائینوں کا خيال رکھا جائے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں کہاکہ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگي، ایٹمی مسائل پر تحقیقات کا جاری رہنا، فردو، نظنز کی ایٹمی سائیٹوں اور اراک کے ہیوی واٹر پلانٹ کا کام جاری رہنے جیسے مسائل کو مذاکرات میں مد نظر رکھنا چاہیے۔ خطیب جمعہ تہران نے اقوام متحد کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں برطانوی وزیر اعظم کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر صدر جناب حسن روحانی کے رد عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم نے اسلامی جمہویرہ ایران پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران کے نزدیک برطانیہ نہایت سیارہ کارناموں کا حامل اور دہشتگردی کا بنیادی حامی ہے نیز برطانیہ نے ارض فلسطین پر قبضے سے لے کر آج تک بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی حمایت کی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ برطانیہ نے مسلط کردہ جنگ کے دوران عراق کے سابق خونخوار ڈکٹیٹر صدام کے لئے کیمیائي ہتھیاروں فراہم کئے اور دہشتگرد گروہ ایم کے او کی حمایت کی اور ایران کی مشروطہ تحریک میں اختلافات ڈالنے کی سازشیں رچی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ ملت ایران کو برطانیہ سے تعلقات بڑھانے کی کبھی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہے بلکہ یہ حکومت برطانیہ ہی ہے جو ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانا چاہتی ہے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف اتحاد کو ریاکارانہ اور شیطانی اھداف کا حامل اتحاد قراردیا اور کہاکہ جو لوگ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے دعویدار ہیں وہ اس طرح سے دہشتگردوں کو جنم دینے کے اپنے اقدامات کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ کے سرغنے ابو بکر البغدادی کو صیہونی جاسوس تنظیم موساد نے ٹریننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف نام نہاد اتحاد کے ملکوں کے شام وعراق کے حساس علاقوں اور بنیادی تنصیبات پر حملے خود مختار ملکوں کی حکومت ختم کرنے کے لئے کھلم کھلا جارحیت ہیں۔

.......

/169